ڈاکٹر جنیفر کی پراسرا کہانی


 ڈاکٹر جنیفر کی پراسرا کہانی

بہت دنوں کی بات ہے  لندن  کے ایک گاوں چلہیم (Chilham village )میں   شام کو  ڈاکٹر جنیفر اپنی گاڑی میں رات کی ڈیوٹی کےلئے  گھر سےنکلی۔جو ہفتے میں ایک بار اس کا معمول تھا ۔دوسری  صبح اس کی ماں نے  حسب دستور جنیفر کے لیے نہانے کیلئے گرم پانی وغیرہ اور  ناشتہ تیار رکھا اور باقی کاموں میں مصروف ہو  گئی ۔صبح آٹھ بجے سے پہلے ہی وہ گھر پہنچ جاتی تھی لیکن آج نو، دس اور گیارہ بھی بج چکے لیکن جنیفر کا کوئی اتا پتا نہیں تھا. اگر جنیفر کو  مارکیٹ جانا ہوتا تو وہ  ہسپتال سے فون  کر کےماں کو ضرور   اطلاع دیتی تھی. بنا  بتائے آنے میں تاخیر  مسز سمتھ  کو پریشان  کر گئی ، آخر ماں  جو ٹہری، اسلئے  اس نے شوہر کو  فون کر کے   بتایا، کہ جنیفر  ڈیوٹی سے ابھی تک نہیں   لوٹی ۔مسٹر سمتھ نے ہسپتال فون کر کے پوچھا کہ ڈاکٹر جنیفر وہاں سے نکلی کہ نہیں. جواب سن مسٹر سمتھ کے پسینے چھوٹ گئے۔  اس کو  کہا گیا کہ ڈاکٹر جنیفر رات کو ڈیوٹی پر   آئی ہی نہیں تھی.مسٹر سمتھ  پریشان حال  گھر پہنچ گیا اور ساری بات بیوی کو بتادی۔ ان کو کچھ سمجھ نہیں آیا  کہ آخر  جنیفر کہاں گئی ہوگی۔ شہر کی پولیس ڈاکٹر جنیفر کو ڈونڈھنے میں لگائی گئی . لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا. سمتھ فیملی کے اوپر قہر ٹوٹ پڑا.انہوں نے تمام زرائع استعمال کر کے بیٹی کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

مسٹر سمتھ  گاوں   میں  اثر و رسوخ  اور باوقار   شخصیت سے جانا جاتا تھا  ، سماجی  فلاح و بہبود  کیلے کام  اچھے کام کرتا تھا۔وہ اپنے گاوں کا  ریئس  الاعظم  تھا ۔  جارج بشاپ کا قریبی دوست بھی تھا۔مسز اور مسٹر سمتھ جارج بشاپ کے پاس اس کی  رہنمائی طلب کرنے کے غرض سے گئے ۔  کیونکہ وہ  چرچ کا پیشوا تھا۔اس نے اظہار افسوس کیا اور ساتھ ہی یہ بھروسہ دیا کہ جنیفر اپنی بچی ہے میں اپنی طرف سے اس کو ڈونڈھنے   پوری کوشش کروں گا۔ کسی کے وہم و گمان میں یہ بات نہیں تھی کہ جارج  بشاپ  ڈاکٹر جنیفر کے غائب ہونے میں  ملوث ہو سکتا ہے۔

جارج بشاپ کا گھر کسی محل سے کم نہیں تھا،جہاں ہر قسم کی آرام و آسائش کا سامان موجود تھا .آرام گاہ، عبادت گاہ ،              طعام گاہ     اور  خواب گاہ    وغیرہ کافی وسیع ہونے کے ساتھ کافی حد تک سنسی خیز تھیں۔جس کی اونچی دیواریں  تھیں اور  سقف پر کئی فٹ لمبے فانوس لگے ہوئے تھے. جن میں درجنوں بلب لگے ہوئے تھے.  سبز پتھروں سے بنی ہوئی دیواریں، ہر دیوار میں  چھوٹے چھوٹے قدرے   گہرے طاق بنے ہوئے تھے. جن میں موم بتیوں کے مانند  بلب لگے ہوئے تھے جن کی دھیمی رفتار سےجلتی  بجھتی روشنی  کسی وحشت کا احساس کراتی تھیں.  داہنے طرف کی دیوار میں ایک بڑا  طاق  بنا ہوا تھا جس پر ایک  شہباز نما   پرندہ بیٹھا ہوا تھا.  جارج بشاپ کے اشارے پر یہ پرندہ وحشت بھری چیکھ کے ساتھ اپنی گردن پھیر لیتا تھا اس کے ساتھ ہی پوری پتھروں سے بنی دیوار دروازے کی  مانندکھل جاتی تھی۔  اندر ایک گہری سرنگ نما راستہ لگ بگ ۵۰ فٹ لمبا نکلتا تھا. سرنگ کی دونوں جانب کی دیواروں میں کہیں ہلکی روشنی اور کہیں گہرا اندھیرا تھا،  اندھیرے  میں کہیں  انسانی کھوپڑیاں کہیں ڈھانچے  نظر آرہے تھے، جن کے دانتنوں کے بجنے کی آواز اس جگہ کو مزیز  ڈراونا بنادیتی تھی ۔ سرنگ ختم ہونے پر ایک باغ تھا جس کے  چاروں اور  پتھروں کی فلک بوس  دیواریں بنی تھیں . زمین میں صرف گھاس تھی۔ باغ کے ایک جانب  کونے میں ایک چبوترہ تھا ، جو بظاہر ایک اوٹ ہاوس دکھائی پڑتا تھا  ۔اس میں ایک  کالے رنگ کا کتا بیٹھا تھا ۔جارج  بشاپ کا اشارہ پانے کے بعد کتا اپنے آپ کو جھنجوڑ کر ایک طرف ہٹتا اور  لمبی درد  بھری آواز میں ایک بار بھونکتا. اسکے   بھونکے پر اوٹ ہاوس ایک  طرف گھوم جاتا تھا جہاں سے نیچے کی جانب ایک اور راستہ نکلتا تھا. کئی سیڑھیاں اترنے کے بعد  سرنگ نما راستہ آتا تھا  پھر چند  سیڑھیاں اسکے بعد کشادہ سا تہہ خانہ تھا۔ الغرض جارج بشاپ نے ہر گوشے میں اپنی شیطانی قوتوں کے دربان بٹھا رکھے تھےاور  وہیں پر جنیفر کو  قید کر لیا گیا تھا. 

جارج  بشاپ ڈاکٹر جنیفر کی شادی اپننے بھتیجے جسٹن بشاپ کے ساتھ کرنا چاہتا تھا  کیونکہ  ڈاکٹر جنیفر    بہت بڑی جایداد کی اکیلی وارث تھی ۔   بشاپ کو جنیفر کی جایئداد  پر نظر تھی۔جسٹن ایک آ وارہ  بندہ تھا اور جنیفر کو  وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔جارج بشاپ رات کو تہہ خانہ جاکر کچھ اہم فیصلہ لینے والا تھا۔ تہہ خانہ پہنچ کر اس نے جسٹن بشاپ  سے دریافت کیا کہ جنیفر  شادی کے لئے آمادہ ہوئی کہ نہیں۔جسٹن  نے نا  میں جواب دیا. جارج بشاپ  غصے کی آگ میں  تلملاتا      ہوا کہنےلگا کہ کس  مٹی  کی بنی ہے یہ لڑکی.جنیفر کو اغواء کرنے کے بعد کافی اذیتیں دی جا چکی تھیں۔ اسکو  دوائیاں دے کر نیم مردہ حالت میں رکھا گیا تھا۔  جنیفر ہوش میں آگئی تو جارج بشاپ نے اسے پہلے سمجھانے کی کوشش کی’.  جنیفر نے کہا ‘تم کچھ بھی کر لو میرا وعدہ ہے کہ تمہارے  چہرے سے  مذہبی  پیشوا والا نقاب اتار کے رکھوں گی ’۔  بشاپ نے ادھر ادھر پھونک مار کر  شیطانی قوتوں   (یعنی جنوں) کو اشارے سے کچھ کہا۔ اسکے بعد ہی جنیفر کو کسی  انجانی قوت نے ہوا میں پھینک دیا ، دوسری اور بھی کسی  ایسا ہی ہوتا رہا  اور  یہ سلسلہ  کئی  لمحوں تک چلتا رہا۔  جنیفر کو کون کہاں سے اٹھا تا ہے اور کدھر پھینکتا ہے ، سمجھ نہیں آرہا تھا .  جنیفر چیکھتی چلاتی  بے حس ہوگی۔ وہ پھر بھی اپنی بات پر اڑی رہی۔ جارج  بشاپ نے بھتیجے جسٹن کو جنیفر کو لے کے شہر چھوڑنے کا پورا پلان سمجھا یا۔  جنیفر کو زبردستی انجکش دی گئی  جس سے وہ  نیند میں  تھی نہ ہی ہوش میں اور اسکا  بھیس بھی بدل دیا گیا . .......!

وہ  جب تھوڑی ہوش میں آگئی تو اپنے آپ کو طیارے میں سوار سیٹ بیلٹ باندھنے ہوئے پایا۔ اسکو لگا  کہ اس پہ بدحواسی طاری ہے . اسلئے اسکو اپنا آپ جہاز میں سوار محسوس ہو رہا ہے . لیکن جب دوسری جانب دیکھ کر اس نے جسٹن کو اپنی طرف مسکراتے دیکھا، اور ساتھ ہی  ائیر ہوسٹس پر بھی نظر پڑی، اسکو یقین ہوگیا کہ وہ ہوائی جہاز میں  بیٹھی ہے،  تعجب اور وحشت کے ملبے جلے ردعمل میں وہ زور سے چلانے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ جسٹن نے ایک خوبصورت رومال نکال کر اسکے منہ پر پھیر دیا اسکے بعد اسے کچھ بھی پتہ نہیں۔ طیارہ منزل پہ  پہنچنے والا تھا ۔ایرہوسٹس نے اعلان کیا کہ ہم چند منٹوں میں قائرہ ہوائی اڈے پر پہنچنے والے ہیں لیکن کپتان یحیی ٰ کا جہاز پر قابو نہیں رہا اسلئے مسافروں سے التجا ہے  کہ سیٹ بیلٹ باندھنے رکھیں وہ مزید  کچھ بولنے والی تھی اچانک زور دار دھماکے کی آواز فضاء میں گونج اٹھی اسکے ساتھ طیارہ المناک حادثے کا شکار ہو گیا۔
چند دنوں میں  مصر کی حکومت نے چھان بین کرنے کے بعد طیارے میں  سوار زخمی اور مرنے والے مسافروں کی فہرست  مواصلات کے زریعے  ملک اور بیرون ملک پہنچا دی ۔  جنیفر کا نام فہرست میں کہیں نہیں تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ جنیفر کو کسی اور کے نام پر سفر کرایا گیا تھا. اندھیرا پھیل چکا تھا،  حادثے کی جگہ ریگستانی نما علاقہ جہاں دور تک بستی کا نام ونشان نہیں تھا.

ہفتے بیت گئے، جنیفر ہوش میں نہیں آئی۔   حادثے اور جسمانی اذیت کی وجہ سے اس کو ہوش آنے میں کافی وقت لگا  بالآخر کچھ ہفتوں بعد  وہ ہوش میں آنے لگی، جسمانی زخم بھرنے میں مزید وقت درکار تھا۔ سنبھلنے پر اس نے اپنے پاس ایک خوب رو جوان دیکھا جسکا چہرہ نورانی تھا. جنیفر نے مرجھائے ہونٹ ہلاتے ہوئے پوچھا، تم کون ہو؟  میرے ساتھ مزید کتنا ظلم اور کروگے؟ جوان نے تبسم بھرے لہجے میں کہا ‘میں نے کوئی ظلم نہیں کیا، ‘میں کچھ ہفتوں پہلے رات کو  ایک  ریگستان سے گزر رہا تھا، اور آپ  ریت میں لت پت   ایک   گڑھے میں  تڑپ رہی تھی آپ کے جسم کا  ہر عضو زخمی تھا،  اگر میں وہاں وقت پر نہ پہنچتا آپ اب تک  ریگستان میں دفن ہو چکی  ہوتی’۔اس نے مزید کہا کہ   اس علاقے میں اسے دو دن پہلے  ایک اڑن کھٹولا گر گیا تھا شاید  آپ بھی اس میں  سوار تھی’ آپ کی  بری حالت دیکھ کر آپ کو یہاں اپنی دنیا میں لایا ہوں’۔جوان نے پوچھا  اب آپ بتائیں آپ کون ہو اور کہاں سے آئی ہو؟. جنیفر نے جواب میں پوچھا اڑن کھٹولا کیا چیز ہے؟۔ جوان بولا جادو کا پلنگ جو آسمان میں اڑتا ہے، جنیفر  کو کچھ دیر خاموش ہوئی  اسکو یاد آیا کہ وہ جہاز میں تھی اور جسٹن  بشاپ اسکی بغل والی سیٹ پر  بیٹھا تھا جنیفر نے پوچھا باقی لوگ کدھر گئے ۔ جوان بولا ‘کچھ پتہ نہیں ’۔ جنیفر  پر  بات کرتے ہوئے غنودگی سی طاری ہوگئی اور  وہ نیند میں چلی گئی ۔ جنیفر جب پھر سے ہوش میں آئی،  اس نے  جوان کو اپنے ہاتھوں میں ایک کاسہ لےکر ایسے دیکھا جیسے وہ اسکے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا. اس نے کاسہ ایک طرف رکھ کر جنیفر کو سہارا دیا اور پلنگ پر ٹھیک سے بٹھایا. جوان  نے کاسہ  جنیفر کے ہونٹوں کے پاس لایا۔ اور آہستہ سے پلا دیا۔ جنیفر نے جب یہ گرم  شوربہ پی لیا  اسکے شریر میں جیسے  جان آگئی ۔  اس نے اپنی زندگی میں اتنا  لزیذ شوربہ( سؤپ )کبھی نہیں پیا تھا۔  اس  نے پلنگ اور اپنے  کپڑے صاف و شفاف دیکھے. وہ جوان کے سے مخاطب ہوکر بولی، آپ نے میرے لیے بہت تکلیف  اٹھائی ہے ۔ آپ کا نام کیا ہے؟ ' میرا نام جوزف ہے' ، جوان  بولا.  جوزف نے پوچھا ‘تم کون ہو’؟ جنیفر لمبی اور درد بھری سانس لے کر بولی‘ میں ڈاکٹر جنیفر ہوں’۔ جنیفر نے  جوزف سا لڑکا پہلی بار دیکھا تھا اسقدر  خیال رکھنے والا بندہ جس نے اس کو موت کے منہ سے نکالا۔  جنیفر نے پوچھا ‘یہ کونسی جگہ ہے’۔ جوزف بولا اس جگہ کو سقارہ کہتے ہے۔
رفتہ رفتہ جنیفر اور جوزف ایک دوسرے کو جاننے لگے ،جنیفر نے جوزف کو اپنے ساتھ بیتی پوری کہانی  ایسے بتائی جیسے کسی اپنے  قریب ترین دوست سے بات کر رہی ہو.بعد میں اسے  احساس ہوا کہ وہ  کسی  اجنبی سے بات کر رہی ہے، اس نے افسوس کا اظہار کیا  لیکن  جوزف نے کہا ‘پوری  بات بتاؤ تمہارا دل ہلکا ہو جائے گا ’۔جوزف ساری بات سن کر اسے دیکھتا رہا۔ جنیفر  اس شہر کے بارے میں پوچھا جوزف نے کہا یہ الگ دنیا ہے۔  جنیفر کو لگا یہ کوئی پسماندہ علاقہ ہوگا.

کچھ مدت کے بعد جوزف جنیفر کو   شہردکھانے لے گیا ۔جنیفر کو شہر اور بازاربہت خوبصورت  لگے، جوزف سے پوچھا یہ کونسا شہر ہے۔ جوزف نے کہا ،  یہ بہشتی بازار ہے، یہاں کی رونق انکھوں کو ٹھندک اور روح کو سکون دیتی ہے۔ واقعی جنیفر کو  یہاں  سارے لوگ اپنے آپ میں گم  دکھائی دئیے۔  اسکو کو یہ جادوئی دنیا لگی۔بازار تھا یا مینا بازار، ایک  سے بڑھ کر ایک  دکان ،کہیں زرق برق    ملبوسات  اتنے عمدہ  تھے کہ جنیفر  کی نظر ان سے ہٹتی ہی نہیں تھی۔  ایک دکان  پر   اطلس اور کمخواب  کی اوڑھنیاں آویزاں دیکھی   وہ اپنے آپ کو  روک نہیں پائی اور  ایک  اوڑھنی کو چھوکر دیکھا چھوتے ہی اس ڈوپٹےکے کئی رنگ بدل گئے  اور اس میں سے رنگ برنگی خوبصورت تتلیاں اڑنے لگیں، وہ ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئی جوزف اپنی  ہنسی روک نہیں پایا. جنیفر نے  ایک دکان کے اندر  جانے کی خواہش کی، وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہاں کیا فروخت ہو  رہا ہے، کیونکہ دکان  سونے چاندی کے جیسے چمک رہی تھی ۔جوزف نے کہا یہ  خضر چاچا  کی مٹھائی والی  دکان ہے۔ جنیفر کو یقین نہیں آیا کہ یہ مٹھائی کی دکان ہو سکتی ہے .اندر گئے تو وہاں ایک معزز اور  پر نور شخص بیٹھا تھا   جنیفر سمجھ گئی  یہ خضر چاچا ہی ہونگے، اس نے سلام کیا  ، بزرگ نے نہایت  دھیمے لہجے  میں مسکراتے ہوئے  جواب دیا۔جوزف  نے دکان دار کو  ایک تراشا ہوا پتھر کے  دیکر  مٹھائی خرید لی۔  جنیفر نے پوچھا پتھر کے عوض مٹھائی خرید لی؟  جوزف بولا ' یہ یہاں کا  رائج الوقت سکہ  ہے. اور یہ قیمتی پتھر ہے۔ جنیفر نے ایک  مٹھائی کا ٹکڑا کھایا۔ اس کے کھانے کے انداز سے لگتا تھا کہ اتنی لزیز مٹھائی  وہ پہلی مرتبہ کھا رہی تھی۔

کئی دن گزر گئے ان دونوں کو  ایک دوسرے کا ساتھ اچھا لگنے لگا۔جنیفر یہاں کام کرنا چاہتی تھی، لیکن جوزف نے منع کیا. کیوں کہ اس کو پتہ چل گیا تھا کہ جسٹن بشاپ زندہ ہے اور کسی ہسپتال میں زیر علاج ہے،وہ   نیم مردہ حالت میں ہیں۔ جنیفر ڈر کے مارے سمٹ گئی ۔ لیکن جوزف نے اسکو  یہ کہہ کر ہمت دی کہ ‘یہاں تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے’.  جنیفر کا اسقدر خوفزدہ ہونا جوزف کو بہت برا لگا اس نے پہلی بار اپنے دل میں  کسی کے لئے  اس قدر تڑپ دیکھی۔وہ اس کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔  حالانکہ جوزف جنیفر کی ہر چیز کا خیال رکھتا تھا،کسی چیز کی کمی  محسوس نہیں ہونے دیتا تھا ۔ وہ   جنیفر کو  دل ہی دل میں چاہنے لگا تھا۔مگر۔۔۔۔۔! کوئی بات تھی جو جوزف کو اظہار محبت سے روک رہی تھی۔

جنیفر کو والدین کی یاد اور فکر  شدت سے ستا رہی تھی.  وہ ان کےساتھ  رابطہ کرنا چاہتی تھی۔ ناممکن نہیں تھا مگر خطرے سے خالی نہ تھا۔  وہ سوچتی رہی آخر اس طرح کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہےگی جنیفر کو کافی غور و خوض کر نےکے بعد ایک خیال آیا کہ جوزف  اچھا بندہ ہے  اگر اس کے شادی کرلی جائے تو دشمنوں کا مقابلہ کرنا قدرے آسان ہوگا سچ مانو تو وہ جوزف کو پسند کرنے لگی تھی. لیکن کہنے کی ہمت نہیں  جٹا پا رہی تھی  ایک روز جنیفر نے جرات کر  کے پوچھا 'میں آپکے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں'. جوزف نے کہا ‘میرے ساتھ شادی نبھانا مشکل ہے ، میں یہ دنیا چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا.  ہماری دنیا تم لوگوں کی دنیا سے بلکل الگ ہے’  جوزف نے  مزید کہا  کہ ‘میں تمہیں سمجھا نہ سکوں گا’. جنیفر نے جوزف کو پوچھا کہ اگر اور دوسرا کوئی راستہ ہو ،جس سے   وہ والدین کے پاس پہنچ کر دشمن کو بھی زیر کر سکے. جوزف نے کہا، میں سب جانتا ہوں. دیکھتے ہیں کیا ہوگا، مجھے سوچنے کے لئے وقت چاہئے . اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جوزف کو بھی جنیفر سے محبت ہو گئی تھی. لیکن.........!   وہ  بنا کچھ کہے اٹھ کے دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں وہ اکثر اداس ہو کے  بیٹھ جاتا تھا  جب   وہ کافی دیر تک  کمرے  سے واپس نہیں نکلا  تو  جنیفر اسکو ڈونڈھتے ہوے اسکے پاس پہنچی    ۔اس کو کمرے  میں آتے ہی  میز پر پڑے ہوے عود   string musical instrumentپر  نظرپڑی اسکی خوشی کا کوئی  ٹھکانا نہ رہا وہ دوڈ تی ہوئی  میز کے پاس گئی اور عود     کو  بجانے لگی۔  جوزف حیران ہوکے اسکو دیکھ کر بولا ‘اتنی پیاری دھن کہاں سے سیکھی ہے’۔ جنیفر بولی ‘موسیقی میرا مشغلہ ہے’۔ جوزف نے بھی ایک  عود  اٹھایا اور نہایت خوبصورتی سے  بجانے لگا   اسکے ساتھ ہی  اسکی زبان پر  چند بول  آپڑے جو کچھ یوں تھے:۔

 

میں سویا ہوا ہوں مجھکو جگا دے  اگر ہوسکے

شعلہ  بجھ  گیا ہوں مجھکو ہوا دے اگر ہوسکے

میں دشت رہتا 
نہ صحرا میں رہتا ہوں
پیاسی ہوا ہوں میں
کچھ کھو چکا ہوں
جسے ڈونڈتا ہوں، میں در بدر

مجھ کو قابو  تو کر لے
بانہوں میں بھر لے
حوصلہ یہ کر لے
اگر ہو سکے

اسکے بعد جنیفر نے بھی  دو بول گا کے سنائے:۔

میں برگ شجرؔ ہوں
شاخ سے الگ ہوں
مٹی میں میں گم ہوں
اے.....! بد مست ہوا تو
آکے اڑا لے ...! یا
خاک میں ملا دے ...یا
گلشن بنا دے
اگر ہو سکے۔۔۔!اگر ہوسکے۔۔۔۔اگر ۔۔۔ہ۔۔۔و۔۔۔س۔۔۔۔کے!
موسیقی اور خوبصورت  گیت سے دونوں کی طبیعت خوش ہوگئی ۔ سنگیت میں بے پناہ قوت ہے جو دلوں کو سکون فراہم کرنے  میں معاون ثابت ہوتا ہے۔کافی وقت یوں ہی گزرا     وہ ایک دوسرے کے اور قریب ہوگئے پھر   آخرکار  دونوں  شادی کے لئے رضامند ہوگئے۔

دونوں شادی کے مقدس رشتے میں بندگئے۔دن گزرتے گئے ،جنیفر دو بار  ماں بنی اور دونوں بار جڑواں بچوں کو جنم دیا  ان کے پاس اب  چار بچے تھے.  دو لڑکیاں اور دو لڑکے،  ولئیم اور  اسرا پہلے  پیدا ہوئے اس کے بعد شہام اور الیزا  پیدا ہوئے ۔ جنیفر اور جوزف بچوں میں اتنے  مشغول ہوگئے کہ وقت کے گزرنے کا پتہ نہیں چلا.  وقت نکلتا گیا۔ ایک روز جنیفر اور جوزف باہر گھومنے نکلے. واپسی پر راستے میں کسی اجنبی نے روک لیا اور مدد کی التجا کی کہ ‘میری بیوی بیمار ہے ، اس کو بچہ ہونے والا ہے، وہ درد سے تڑپ رہی ہے ’۔ جنیفر نے جوزف کی طرف دیکھا اس نے  جانے کا اشارہ کیا اور کہا کہ اس کو مدد کی ضرورت ہے۔ جوزف گھر گیا کیونکہ بچے اکیلے تھے۔جنیفر اس اجنبی کے گھر گئی  ،اس نے دیکھا  واقعی اس اجنبی کی  بیوی درد پیدائش میں مبتلا تھی۔ جنیفر کی کافی  مشقت کے بعد بچہ صحیح سلامت پیدا ہوا ۔  اب  کافی دیر ہو چکی تھی۔ جنیفر  ہاتھ منہ   دھونے کیلئے غسل خانے کی طرف چل دی جو برآمدے میں اس نے آتے وقت دیکھا تھا۔ اسنے پانی کےلیے مگ ڈھونڈا، اجنبی جو نہایت مخلصانہ کیفیت میں جنیفر کے پیچھے  کھڑا تھا ،کہا  ‘ مگ  ادھر ہے،میں لا کے دوں گا’۔  مگ غسل خانے سے کم ازکم چودہ فٹ کی دوری پر تھا اور اجنبی  ڈاکٹر جنیفر کے ساتھ ہی  کھڑا تھا۔ اجنبی نے وہیں سے اپنا بازو دھیر ۔۔۔ے۔۔۔۔۔! دھیرے لمبا کیا اور ہاتھ  سےمگ اٹھا لایا، اور جنیفر کی طرف بڑھا دیا۔ جنیفر کا سانس  چودہ فٹ لمبا بازو دیکھ  رک گیا اور  وہ  بے ہوش ہو کر وہی گرگئی۔ اجنبی نے پانی کی چھینٹیں دے کر جنیفر کو ہوش میں لایا اور  اپنی بھاری  بھرکم آواز میں  پوچھا ‘بہن،‘ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی’؟      جنیفر نے سر ہلا کر کہا نہیں۔  اجنبی نے جنیفر کی طرف ایک خوبصورت تھیلا بڑھا کر کہا  ‘بہن یہ لو ہماری طرف سے تحفہ  قبول کرلو ’۔جنیفر نے لرزتے ہوے پوچھا یہ کیا ہے۔ اجنبی نے کہا یہ کمخواب  سے بنی اوڑھنی  اور لباس ہےجو آپکو بہشتی بازار میں پسند آ یا تھا۔  جنیفر نے کہا   میں    یہ لباس نہیں  پہنتی ۔اجنبی کے کافی اصرار پر اسنے تحفہ رکھ لیا  کیونکہ  وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ اجنبی سے  بحث کر سکے،  اس نے تحفہ رکھ لیا اور تیزی سے دروازے کی طرف چلدی۔

جنیفر   خوفزدہ حالت میں اجنبی کے گھر سے نکلی۔ اس کا  سر گھوم رہا تھا ۔  اسکے دماغ میں صرف یہی  بات گھونج رہی تھی کہ  اتنا لمبا ہاتھ کس کا ہو سکتا ہے  ۔اجننی ،بازار، اوڑھنی ،لباس وغیرہ   ہر چیز اسکے  ذہن کو ہتھوڑے ماررہی تھی اسکو ہر طرف لمبے بازو دکھائی دینے لگے۔  اور کافی   دیر بھی ہو چکی تھی اسی عالم اوہام  میں غوتے کھاکر وہ گھر پہنچی ۔  جوزف نے  اس کو سنبھالا، پانی پلایا اور پھر   بدحواسی کا سبب پوچھا،  جنیفر نے اجنبی کے لمبے بازو اور ہاتھ کا ذکر کر کے سارا قصہ  تفصیل سےسنایا ۔

 جوزف نے اپنی  نظریں ترچھی کر کے اور  عجیب سی مسکراہٹ ہونٹوں پہ لاتے ہوئے اپنا ہاتھ  دھیرے!۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھیرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لمبا کر کے کمرے کے دوسرے سرے تک لےکر کہا ' ایسا ۔۔۔۔۔۔تو ۔۔۔۔۔۔مت ۔۔۔۔۔۔۔تھا !

مسلسل۔۔۔۔۔

                                           دوسری قسط

ڈاکٹر جنیفر کی  پراسرار  کہانی

جنیفر پر  سکتہ طاری ہو گیا تھا.  ہنسنا بولنا بھول گئی تھی. لیکن جب بچے اسکے پاس آگئے. وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بچوں کے ساتھ لپٹ  گئی. ایک بچہ آنسوں پونچھ رہا تھا.  دوسرا ماتھا چوم رہا تھا .تیسرا پاوں دبا رہا  تھااور چوتھا  بال سنبھال رہا تھا، بالکل اسی طرح جس طرح ماں بچے کو بہلاتی ہے.اسرا اور شہام زیادہ نٹ کھٹ تھے. دونوں نے ماں کو ہنسانے کی کوشش کی.بڑی دیر کے بعد جنیفر سنبھل گئی. کمرے کے ایک کونے میں جوزف  خاموشی سے دیکھ رہا تھا. جنیفر کو پہلی بار احساس ہونے لگا. کہ وہ جس جگہ پر ہے یہ جنات کی دنیا ہے. یہاں صرف جنات رہتے ہیں ۔ڈر کے مارے اسکا وجود کانپ رہا تھا۔لیکن اپنے آپ سنبھالنے کے سوا اسکے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔  جوزف نے  جنیفر کے قریب آکر عاجزانہ لہجے میں  کہا میں نے کبھی تمہارا برا نہیں چاہا ہے اور نہ چاہوں گا. جنیفر  سوچ میں پڑھ گئی کہ واقعی  جوزف نے کبھی اس کو نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ ہر تکلیف سے نکالا. اور بدلے میں کبھی کچھ نہیں مانگا. یہاں تک کہ شادی کا فیصلہ بھی خود جنیفر کا تھا. لیکن پھر بھی اس کا دل  کافی اداس تھا۔ جوزف  نے پوچھا 'کیا تم کو ماں، بابا کی یاد ستاتی ہے'. جنیفر کی  دکھتی رگ  کو جیسے  جوزف نے چھو لیا. اور وہ روتے روتے نڈھال ہو گئی. جوزف نےکہا  میں تمہیں ان کے پاس پہنچانے کی ہر ممکن مدد  کروں گا.  جنیفر نے  ہکلاتے  ہوئے لہجے میں پوچھا ؟ ت.....ت......تم بھی جنات میں سے ہو،  جوزف نے کہا 'میرا  یقین کرو، میں جنات میں سے نہیں ہوں' . 'میں بھی کبھی انسان ہوا کرتا تھا, میں  یتیم خانے میں پلا بڑھا کس ماں باپ کی اولاد ہوں مجھے نہیں معلوم ،کسی مذہب سے ہوں یہ بھی نہیں پتہ. میں تیراہ چودہ سال کا تھا تب جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ یتیم خانے کیلئے کچھ سامان لانے گئے  تب میں ایک  سڑک حادثے کا شکار ہوگیا. میرا جسم  پورا ختم ہو گیا، جس کی وجہ سے میرے آخری رسومات ادا نہیں ہوئے. میں وہی روح ہوں. ایسے ہی آوارہ  گھوم رہا تھا'.  جنیفر نے پوچھا ' جنات کی دنیا میں کیسے آگئے'. جوزف بولا 'مجھے  ادھر  ادھر  بھٹکتے ہوئے  ایک  دفعہ  جنات کی دنیا کے مٹھائی والے بزرگ خضر چاچا مل گئے.  انہوں نے مجھے نام دیا اور کسی جن  کا جسم دے دیا،  اور کہا کہ اگر کسی کو مشکل میں دیکھو تو اس کی مدد کیا کرو۔تب سے میں بھی ان کے جیسا ہی ہو گیا ہوں.اس دن سے میرا کام یہی ہے کہ اگر کوئی ّ مصیبت میں ہو تو میں دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں’. جنیفر نے  پوچھا ‘کیا جنات بھی کسی کی مدد کرتے ہیں’. جوزف بولا  اگر  انسان اچھے اور برے ہو سکتے تھے تو ظاہر ہے جنات بھی اچھے اور برے ہو سکتے ہیں’. جنیفر نے مایوس نظروں سے جوزف کو دیکھا اور پوچھا، میں گھر واپس جاؤں گی ، تم یہ دنیا چھوڑ کے میرے ساتھ نہیں آؤگے، تو نے مجھے ایک بار کہا تھا ،مجھے اسوقت سمجھ نہیں آیا مگر میں کس کو بتا سکوں گی    کہ میری شادی ایک روح  کے ساتھ  ہو چکی ہے۔   اگر بتا بھی دیا میرا  یقین کون کرے گا۔ لوگ مجھے پاگل  یا دیوانی  سمجھیں  گے۔   کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے،میں سب کو کیا بتاؤں گی، وہاں دوستوں سے زیادہ دشمن بیٹھے ہیں. جنیفر نے  اچانک جوزف سے  پوچھا ‘ مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ میں کیسے تم کو  دیکھ پاتی ہوں ’؟  جوزف نے کہا    ‘  حادثے کے وقت جب تم  کافی دنوں تک ہوش میں نہیں آئی تو میں  گھبرا گیا  اسلیے میں نے خضر چاچا کو بلایا تھا، انہوں نے  اپنا ہاتھ تمہارےسر اور آنکھوں پر رکھا تھا ،اس کے بعد تم ہوش میں بھی آئی اور مجھے دیکھ بھی پائی تھی۔  جنیفر نے کہا اب آگے کیا کرینگے۔  جوزف نے اس کو کہا تم سب سے کہو کہ جوزف کام کے سلسلے میں وہیں پر ہے۔   لیکن پہلے یہاں سے تمہیں بچوں کے ساتھ جائز طریقے سے اپنے ملک کے لئے روانہ ہو نا ہے. جوزف نے جنیفر کی ہر قدم پر مدد کی.

 جنیفر کو پہلے مصر میں یہ ثابت کرنا  پڑا وہ کن حالات میں اور کیسے قائرہ پنہچی.   بڑی کاوشوں اور تحقیقات کے بعد جب جسٹن بشاپ  کو پیش کیا گیا  جو حادثے کی وجہ سے  معذور میں  ہو چکا تھا   وہ  اب بہتر محسوس کر رہا   تھا، لیکن اس کی  ٹانگ اور ہاتھ حادثے کی نظر ہو گئے تھےاور اس کی حالت بری تھی ، وہ بہت مایوس اور ناامید ہو چکا تھا ۔ اس نے اپنے  گناہ کا اعتراف کیا کہ سال ۱۹۶۵ میں جو طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا تھا اس میں جنیفر میرے ساتھ تھی اور اس کو  جویریا کے نام سے سفر کروایا تھا۔ جسٹن بشاپ نے اعتراف نامے میں  اپنے چاچا  جارج بشاپ سے ملکر جنیفر کو اغواٗ کرنے  سے  ،  تحہ خانے میں بند کرنے  اور ازیتیں دینے کی سازش رچنے  کا سارا قصہ بیان کیا۔حکام نے اسکے دستخط لیئے ۔ پوری رپورٹ  اور جسٹن بشاپ کو برتانیہ کے حکام  کے حوالے کیا تاکہ مجرم کو  اپنے وطن کے قانون کے مطابق سزا مل سکے۔  متعلقہ حکام کے سامنے چھان بین کے دوران مصر کے فضائی محکمہ کی جاری کردہ  وہ فہرست پیش کی گئی جس میں ۱۹۶۵ کے ہوائی حادثے سے جان بحق ہونے والوں  کے نام درج تھے  جسے ساری حقیقت عیاں ہو گئی. جنیفر نے جوزف کے کہنے پر  مصری حکام سے بتایا کہ‘میں نے  یہاں (مصرمیں)  جوزف نامی شخص سے شادی کرلی۔ اور  میرےچا  ر بچے بھی ہیں  ۔ جنیفر مشکل میں تب پڑ گئی جب جوزف کو  حکام کے سامنےحاضر ہونے کے لئے کہا گیا۔اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جوزف کو کیسے سامنے لائے گی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ اسکو لگا ساری محنت اور کوششیں  رائیگان   ہوگئی ۔اسی کیفیت میں مبتلا جوزف  حکام کے دفتر  میں داخل ہوا اور کہا ‘میرا نام  جوزف ہیں ،اور میں  جنیفر کا شوہر ہوں ’۔ ڈاکٹرجنیفر بہت خوش ہوگئی ۔اس طرح  جنیفر کو اپنے وطن لوٹنے کا راستہ ہموار ہو گیا ۔ بعد میں  جنیفر نے جوزف سے پوچھا  یہ سب لوگ تم کو کیسے دیکھ پائے۔ جوزف نے کہا  خضر چاچا نے   یہ لباس پہنے کو دیا  جس کی وجہ سے یہ سب ممکن ہو گیا۔ میں اسے یہ واپس کرنے جا رہا ہوں۔ جنیفر نے پوچھا کیا تم یہ لباس اپنے  ہی پاس  نہیں رکھ سکتے۔ جوزف نے کہا  نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔

جنیفر کی تیاری ہو گئی۔ آخر وہ  دن آگیا جب جنیفر اور جوزف الگ ہونے والے تھے۔ جوزف کو دکھ ہو رہا تھا. آج اس کی چھوٹی سی کائنات ختم ہونے جا رہی تھی.  جنیفر بھی کچھ ٹھیک نہیں تھی.  لیکن...... اسکے اور بچوں کے لئے اپنی دنیا میں واپس جانا اس نے  بہتر سمجھا. جنیفر  جوزف  کو آخری بار جی بھر کے دیکھ رہی تھی۔ جوزف نے کہا  دکھی مت ہو، تم جب  مجھے شدت سے یاد کرو گی  مجھے اپنے پاس پاوٗگی، یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ بھلے ہی میرا کوئی ظاہری  وجود نہ سہی مگر تم مجھے ہمیشہ موجود پاوگی۔  جنیفر  بھیگی پلکیں  لئے ہوئے چار  بچوں کو  لیکر نکلی۔جوزف نے کہا  ‘میں  اسرا اور ہشام کو اپنے  پاس رکھنا چاہتا ہوں  لیکن  انہیں تمہارے ساتھ اسلئے بیجھ رہا ہوں  تاکہ تم اپنے دشمن کو زیر کر سکو ، اور یہی دو  بچے  جارج بشاپ انجام تک پہنچاینگے’ ۔جنیفر نے پوچھا کیوں ؟ جوزف سہمے ہوے لہجے میں  بولا کیونکہ یہ دونوں میری طرح غیر مرئی (نظر نہ آنے والے ) ہیں . جاتے جاتے جنیفر کو ایک اور صدمہ لگ گیا وہ دونوں بچوں کو زور سے گلے لگا کر بولی میں ان  میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑ سکتی،  جنیفر نے  ٹوٹتی ہوئی زبان میں پوچھا ولیم اور الیزا    ، وہ ۔۔۔وہ ۔۔! ۔۔جوزف نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے بولا کہ ولیم اور الیزا تمہاری طرح مکمل انسانی وجود ہیں۔

 اسکے بعد جوزف نے جنیفر کی طرف ایک چھوٹی شیشی بڑھائی اور کہا یہ رکھ لو، جنیفر نے پوچھا ‘اب یہ کیا ہے’ْْْْ ؟ جوزف نے کہا یہ سلیمانی سرمہ ہیے. اس کو ماں بابا کی آنکھوں میں لگا نا وہ ان  دو بچوں کو یعنی  اسرا اور ہشام کو بھی دیکھ سکیں گے،  جب تک جارج  بشاپ بےنقاب نہیں ہو جاتا تب تک کس اور کو سرمہ کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جوزف نے  بچوں اور جنیفر   کو پر نم آنکھوں سےدیکھ کر  کہا ‘میں تم لوگوں کے  ساتھ آگے نہیں جا پاوٗں گا  ۔ جنیفر کی جیسے جان نکل گئی ۔جوزف نے اس کو دلاسہ دے کر کہا گھبراو مت میں تمھارے آس پاس  ہی  ہوں۔جب تک مجھے اپنے دل میں رکھوگی  مجھے قریب پاوگئ، بس اتنی سی بات یاد رکھنا ،اگر تو نے مجھےدل سے نکال دیا میں کھو جاونگا، اور دوبارہ کبھی نہیں ملونگا۔ جنیفر بے قابو ہوکر جوزف سے لپٹ کر  خوب روئی   اور اسے الودا کیا۔

جنیفر نے  شیشی جو  کئی رنگوں کا سفوف (پاوڑر) تھا اپنے بیگ میں رکھا اور  بچوں کو لیکر  وہاں سے نکلی  اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ راستے میں اس نے سوچا کہ  مٹھائی والے خضر چاچا کی دکان سے وہ لزیز مٹھائی بھی لے لوں اچھا رہے گا اور اس پرخلوص  اور نورانی شخص سے دعائیں بھی لے لوں ۔ جب وہ بازار پہنچی  اس  نے ڈرایور کو گاڑی روکنے کو کہا،   گاڑی سے اکیلی اتر کر اس نے ادھر ادھر دیکھا ۔اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی وہاں وہ بازار  تھا  ہی نہیں ،جو اس نے جوزف کے ساتھ دیکھا تھا. نہ ہی وہ خضر چاچا کی مٹھائی والی دکان نظر آئی۔ وہ  حیران و پریشان  ہرگوشے میں بہشتی بازار ڈھونڈتی  رہی مگر وہ کہیں نہیں تھاادھر ادھر گھومنے لگی لیکن وہاں اجڑے ہوئے ریگستان کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔  وہاں قدیم  فرعونوں کےمخروطی مینا ر دکھائی دئے جن سے وحشت ٹپکتی تھی۔ مایوس ہوکر  اپنے ساتھ بڑبڑانے لگی ‘آخر خضر چاچا کدھر ہے ؟ یا  پھرشاید میں ہی راستہ بھول گئی ہوں’۔ کہیں سے جوزف کی آواز آئی ‘تم ٹھیک راستے سے  جا رہی ہو خضر چاچا لاکھوں لوگوں میں کسی ایک کو پوری زندگی میں بس ایک بار ملتے ہیں ،تم خوش قسمت ہو تمہیں وہ  مل گئے اور نعمت سے نوازا’۔   جنیفر  آگے پیچھے دیکھے بغیر چپ چاپ  منزل کی اور بڑھ گئی ۔

 

ریحانہ شجر،    وزیر باغ، سرینگر، کشمیر

 rehanashajar@gmail.com  

 

 

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کہانی(انوکھا سفر)

کہانی (عیدی)

پھر ملیں گے…….. دوست!