کہانی (عیدی)
عیدی
زعفرانی قہوہ اور
شیرمالوں کی خوشو سے ہوائیں معطر ہو رہی ہے. آج عید کا مبارک دن
ہے . بچے ہوں یا بڑے عید کی تیاری میں سبھی جٹے رہتے ہیں .نت نئے ملبوسات اور دیگر
لوازمات بازاروں کی چہل پہل ہر سوں دیکھنےکو ملتی ہیں. عورتوں اور بچوں
کی تیاری خاصی دلچسپ اور قابل دید ہوتی ہے ۔ کوئی جوتوں کے تسمے ٹھیک کرتا ہے ۔
کوئی لباس درست کر رہا ہے ۔ چھوٹی لڑکیاں ہاتھوں کی مہندی کو دیکھ کر خوش
ہو رہیں ہیں .خوبصورت فضاء ہے اور آفتاب کتنا پیارا لگ رہا ہے گویا ساری
کائنات کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہو ۔ کیوں نہ ہو، رحمتوں اور برکتوں سے
بھرا مہینہ رخصت ہوا۔ شکرگزاری کی رونق ہر طرف دیکھتے ہی بنتی ہے۔
سارے
بچے خوش کسی نے ایک روزہ رکھا تھا تو کسی نے آدھے دن کا
لیکن عید گاہ جانے کے لئے سارے بیتاب. ان کو عیدی کیا مل گئی
سارے بچے اپنی جیبوں میں بار بار ہاتھ ڈال کر ایسے خوش مانو خزانے مل
گئے ہوں۔ ان چند روپوں سے ساری دنیا خریدنے نکلنے۔ روزے بڑے، بزرگوں اور جوانوں کے
لئے ہیں مگر بچوں کےلئے عید ہے۔ پورے مہینے عید کا انتظار کیا لو اب عید آ
ہی گئی ۔سارے بچے اپنی ہی دھن میں مگن ۔ چھ سال کا فریَد بہت جوش میں
ہے۔ ننھا فرید دو سال کا تھا جب اسکے بابا شاکر اور چچا ماجد ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔
شاکر واردات کی جگہ پر ہی فوت ہوگیا تھا، اور ماجد زندہ ہے لیکن کچھ
کرنے کی حالت میں نہیں ہے دونوں مل کر محلے کے کوچے میں کریانہ کی دکان
چلاتے تھے۔ حادثے کے بعد شاکر کی بیوی کو اسکے میکے والے لے گئے
تھے لیکن فرید کو دادی زینت کے پاس چھوڑا ۔ تب سے زینت سلائ کڑھائی کا کام
کر کے گزارہ کر لیتی ہے ۔ دن بھر گھر اور بیمار ماجد کےساتھ اور
رات دیر تک موم بتی کے نیچے سلائ کر کے بسر کر رہی ہے ۔ آنکھیں کم
روشنی میں کام کرنے وجہ سے کمزور ہو گئی ہے علاقے میں بجلی کی سپلائی اکثر متاثر رہتی ہے.
بہت محنت کر کے گھر چلاتی رہی ہے۔ اپنے بیٹے ماجد اور اس معصوم فرید
کےلئے سب کچھ کر گزرتی ہے ۔ جب سے کوویڈ ۔۱۹ وباءشروع ہوا زندگی اور مشکل ہو گئی
ہے۔ کھانے کے بھی لالے پڑ گئے ہیں ۔ اور زینت کے پاس فقط ۱۰۰۰ روپے ہیں. فرید
پہلی بار دوستوں کےساتھ عید گاہ جارہا ہے۔ یتییم کو کون عیدی دےگا۔اسلئے
زینت نے بچے کو عیدی دےدی ۔ اور اسے نہا دھو کے تیار کیا ۔
اپنے ہاتھوں سے تیار کئے ہوئے کپڑے اور ٹوپی رنگ برنگی موتیوں سے سجی ہوئی
پہنا دی۔ وہ پریشان ہوگئ کہ بچے کو اکیلا کیسے جانے دوں لیکن وہ مجبور تھی، گھر اور بیمار کو کسی
کے بھروسے چھوڑتی۔ اتنی دیر میں فرید یہ کہتے ہوئے آیاکہ جعفر ، اور فیضان کے
بابا بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر
زینت کو سکون ملا۔ دوستوں میں اب ظفر ، فیضان ، اورجعفر
تھے شیرین اور اسکی ماں بھی ساتھ چلیں۔
عید
کی نماز پڑھی اور پھر پورا بازار کو گھومنے لگ۔
راستے
میں ایک سے بڑ کر ایک شامیانے لگے ہوئے ہیں .کہیں بیکری اور مٹھائیاں
کہیں خوبصورت چوڑیاں ہیں ۔ ساری دنیا گویا مینا بازار بن گئی ہے ۔ جگہ
جگہ پر بچوں کو بیتاب کرنے والے کھلونے ، غبارے اور کیا کیا۔ سب کے امی ابو ،بچوں
کو کبھی مٹھائی تو کبھی کھلونے لےکر دیتیں۔ آگے چلے تو ظفر، فیضان اور جعفر
کو من پسند کھلونوں پر پڑی۔ ظفر نے ڈورے مان (
Doraemon) فیضان نے سپر مین(
Superman) اور جعفر نے چھوٹا بھیم لےلیا، لیکن فرید کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ یہ
سب خرید لیتا ۔اس کا من کر رہا تھا کہ سارے کھلونے بس ایک
بار ہاتھ میں اٹھا کر دیکھ لیں لیکن بچے کہاں اپنے
کھلونوں کو چھونے دیتے ہیں۔ لڑکے بھی کھلونے ا چھال اچھال کر فرید کو تڈپاتے
تھے ۔ فرید من ہی من خود کو
تسلی دیکر کی یہ بڑبڑایا کس کام کھلونے ہیں، گھر پہنچتے ہی ہوا نکل جائے گی اور ہے
تو پلاسٹک کے، ٹیچر کہہ رہی تھی کہ اسے ماحول آلودہ ہو جاتا ہے۔
آگے
بڑھنے پر چاکلیٹ کے دکان دکھائی دئیں۔ بچوں نے من پسند چاکلیٹ لیں اور
مزے لے کر کھانے لگے۔فرید کا نازک دل مچلتا تھا منہ
میں پانی آرہا ہے چھوٹی سی زبان ہونٹوں پر پھیر لی اور آگے چلا.۔۔۔۔
اللہ
اللہ ، معصوم فرید کا
یہ ضبط نفس دیکھ کر آسمان کے
فرشتوں کے بھی پسینے چھوٹ رہے ہونگے
۔
فیضان
نے فرید کو کہا ‘تمہارے پاس جو عیدی ہے تم بھی
ایک چاکلیٹ لے لو’. فرید نے پوچھا ‘کتنے کی ایک چاکلیٹ ہے’؟
فیضان بولا ۳۰۰ کی ہے . فرید نے کہا
میرا ابھی من نہیں ہے . شیرَیں کی ماں نے ایک چاکلیٹ پیش کی اور بہت اسرار
کیا بیٹا کھا لو لیکن اس نے نہیں لی۔
چلتے ہوئے اچانک فرید کی نظر ایک ریڑھی والے پڑی جو اور چیزوں کے
علاوہ شمسی لالٹین بھی بیچ رہا تھا ۔ وہ رک گیا اسکو یاد آیا کہ اس کی
دادی کو ایک دن موم بتی کے نیچے سلائ کر تے وقت کسی عورت
کا کرتا جل گیا تھا اور وہ عورت کتنا کچھ سنا گی تھی۔ اندر سے سوچنے لگا میں
یہ خرید لوں گا دادی بہت خوش ہو جائے گی ۔وہ ریڑھی والے کے قریب گیا اور لالٹین کی
قیمت پوچھی، ریڑھی والا بولا ‘تمہارے کام کا نہیں ہے ’. فرید بولا ‘مجھے گھر
کے لیے لینی ہے’۔ جواب ملا بیٹا یہ ڈھائی سو کی ہے۔ فرید نے نہایت بھولے پن
سے بولا میرے پاس تو صرف عیدی کے دو سو ہیں. ریڑھی والا اس معصوم کو اور کچھ
نہ کہہ سکا لالٹین بچے کو دے کر کہا ‘ٹھیک ہے ،یہ لو’۔ دوستوں نے کھلی اڑائی ۔لیکن
وہ چپکے سے چلتا رہا۔ خود سے باتیں کرتا ہوا۔ میں بڑا ہو جاؤں گا اور چاچو
بھی ٹھیک ہو جائے گا ۔ ہم دونوں مل کر پھر سے اپنی بند پڑی دکان کھولیں
گے ۔ دادی کو کام کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی. میرے پاس یہ بڑے بڑے چاکلیٹ ہونگے
سارے بچے دیکھتے رہ جائیں گ۔
گھر
کی طرف بڑھتے ہوئے واپسی پر افراتفری پھیل گئی ۔ کہیں سے گولیوں کی
آواز یں آرہی ہے بھیڑ اتنی بے قابو ہو گئ کہ ماؤں سے بچے بچھڑ گئے .
پوار بازار ایک ویرانے میں بدل گیا ۔ بہت کوششوں کے باوجود حالات پر قابو پایا نہ
گیا۔ساری جدوجہد بے سود ۔ بے بس بچہ اس زد میں آگیا اور سڑک کے ایک طرف گر
گیا۔ دیکھتے ہی سناٹا چھا گیا ہر طرف دھواں ہی دھواں، کھلونے ،جوتے ہر طرف
بکھرے پڑے ہر سوں تباہی اور
بربادی کا عالم او کچھ نہیں . تناؤ تھمنے
کے بعد متعلقہ شعبہ کے ایک بندے کو
سڑک پر پڑے بچے پر نظر پڑی وہ دوڈ کے اسکے قریب گیا تو دیکھا بچے کے
سر پر گہری چوٹ لگی ہے. معصوم نے اس حالت میں بھی لالٹین مضبوطی سے
پکڑا تھا، بندے کو شمسی لالٹین دے کر
مرجھایئ
ہوئی آواز میں بولا. یہ میری دادی کو دےدینا اور کہنا رات کے وقت اسکی روشنی
میں کپڑے سلائ کرنا۔ یہ میں نے عیدی سے خ....ر...ی....! آگے کچھ نہ
بول سکا اور ہمیشہ کے لئے چپ ہو گیا.
ادھر
دادی زینت کچھ خاص پکوان تیار کرکے فرید کی راہ دیکھ رہی تھی، اور کسی نے
دروازہ کھٹکھٹایا وہ دوڑتی ہوئی دروازے کی طرح یہ کہتے ہوئے آئی. آگیا میرا لال.
زینت کے دروازے پہ موت کا طوفان کھڑا تھا
جسے دیکھ کر و ہ ایسے سکتے میں پڑ گئی کہ شاید ہی کبھی اپنی اصلی
حالت میں آپایگی۔
ریحانہ شجر، وزیر باغ، سرینگر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں