نظم (مسیحا کی تلاش)
مسیحا کی تلاش سنسان رستے، انجان راہی بےبس، بے کس، تنہا تنہا ہاتھوں میں لیے اک خالی قلش ا ٓنکھوں میں عجب سی آس لیے کاندھے پہ لیے زخموں کی لعشیں سینے میں ہزاروں درد لیے حا لات کے چھالے پاوں میں ہونٹوں میں غضب کی پیاس لیے رو رو کے صدایٗں دیتا تھا۔۔۔۔۔! وہ آیگا۔۔! وہ آیگا مریم کا بیٹا آیگا۔۔۔! میرے زخموں کی دوا، وہ لایگا! شجرؔ کے سائےمیں بیٹھا ملنگ دبی آواز میں بول پڑا یہ دور قیامت ہے بھائی۔۔۔! یہاں کون کس ساجھی ہے۔ سب کے ہاتھ میں خنجر ہے یہاںسب کے سینے چھلنی ہے بستی کی ہر روح گھائل ہے خار خار ہے سارے دامن ٹوٹے ٹوٹے سارے نشیمن تار تار ہے ہر اک چلمن چور چور ہے ہر اک درپن کون مریمٗ ۔۔؟ کیسا مسیحا۔! درد کےپیرہن میں لپٹی مریم۔۔۔۔! ہاتھوں کو ملتی رہتی ہے آنکھوں سے اشک بہاتی ہے ڈھونڈے وہ ہزاروں لاکھوں میں مسیحا پڑے ہیں مزاروں میں ریحانہ شجر، وزیر باغ ،سرینگر ...