اشاعتیں

انوکھا سفر

پھر ملیں گے…….. دوست!

پھر ملیں گے …….. دوست ! کیپ ٹاوٗن کے مرکزی شہر میں رہایش پزیر ،دونوں دوست آد ؔ م اور شؔہیر کھانا کھانے کے بعد باتیں کرتے رہے۔ کافی وقت بحث کرتے ہوئے گزرا ۔ آخر میں شہیر نے آدم سے کہا  دیکھو دوست کچھ  باتیں ایسی ہوتی  جو عقل اور شعور سے پرے ہوتی ہیں ۔ ان کو ایسے ہی قبول کرنا بہتر ہے۔ میں  تو اس بات کو مانتا ہوں کہ  ہمارے آ س پاس کچھ  ان دیکھی قوتیں  ہیں  جیسے فرشتے، روحیں وغیرہ  ۔            آدم  نے  بےتکلفی سے جواب دیا ، ’یار اس وقت میرے پاس بحث کر نے کے لئے وقت  نہیں ہے  کیونکہ مجھے جانے کی تیاری بھی کرنی ہے۔   چند مہینوں کی بات ہے، پھر تفصیل سے اس بارے میں بات کرینگے۔شہیر نے  کہا ’ ٹھیک ہے دوست ،   اپنا خیال رکھنا  ،  اور آدم کو گلے لگا کر کہا،مجھے اجازت  دو،  ۔۔۔پھر ملیں گے۔  دوسرے صوبے یعنی مشرقی کیپ ٹاوٗن میں  آدم نے اپنا کام شروع کیا۔ وہ  اس  بات  سے  بخوبی واقف  تھا کہ کام بڑے...

ڈاکٹر جنیفر کی پراسرا کہانی

 ڈاکٹر جنیفر کی پراسرا کہانی بہت دنوں کی بات ہے  لندن   کے ایک گاوں چلہیم (Chilham village ) میں   شام کو  ڈاکٹر جنیفر اپنی گاڑی میں رات کی ڈیوٹی کےلئے  گھر سےنکلی۔جو ہفتے میں ایک بار اس کا معمول تھا ۔دوسری  صبح اس کی ماں نے  حسب دستور جنیفر کے لیے نہانے کیلئے گرم پانی وغیرہ اور  ناشتہ تیار رکھا اور باقی کاموں میں مصروف ہو  گئی ۔صبح آٹھ بجے سے پہلے ہی وہ گھر پہنچ جاتی تھی لیکن آج نو، دس اور گیارہ بھی بج چکے لیکن جنیفر کا کوئی اتا پتا نہیں تھا. اگر جنیفر کو  مارکیٹ جانا ہوتا تو وہ  ہسپتال سے فون  کر کےماں کو ضرور   اطلاع دیتی تھی. بنا  بتائے آنے میں تاخیر  مسز سمتھ  کو پریشان  کر گئی ، آخر ماں  جو ٹ ہ ری، اسلئے  اس نے شوہر کو  فون کر کے   بتایا، کہ جنیفر  ڈیوٹی سے ابھی تک نہیں   لوٹی ۔مسٹر سمتھ نے ہسپتال فون کر کے پوچھا کہ ڈاکٹر جنیفر وہاں سے نکلی کہ نہیں. جواب سن مسٹر سمتھ کے پسینے چھوٹ گئے۔  اس کو  کہا گیا کہ ڈاکٹر جنیفر رات کو ڈیوٹی پر...

دارالضعیف

    (Old age home)  دارالضعیف انسپیکٹر صاحب میں نے آپ کو  فون کرکے بلایا،اخبار، دودھ وغیرہ دروازے کے سامنے پڑا ہے   ابھی تک اندر سے کوئی اٹھانے نہیں نکلا۔ میں نے   کئی بار دستک دی پر کوئی ردعمل یا جواب نہیں ملا۔ میرا نام صدیق ہے۔ میں اس کالونی کا دھوبی ہوں دوپہر کے بعد میں کپڑے لانے اور لےجانا آتا ہوں ۔ صدیق ،انسپیکٹر اسد کو مکان کے قریب لے گیا۔  انسپیکٹر نے پوچھا یہاں کون رہتا ہے یہ گھر کسی کا ہے۔ صدیق بولا ‘صاحب یہ محترم خلیل ماروی او اس کی اہلیہ  آسرا    ماروی کا گھر ہے’۔ انسپیکٹر اسد نے اپنی ٹیم کے ساتھی کو دروازہ توڑنے کا حکم دیا ۔پولیس اہلکار نے دروازے کو ہلکا دکا دیا   اور دروازہ بنا کسی کوشش کے کھل گیا حیران ہو کر جٹ سے بولا ‘ سر دروازہ کھلا ہے’۔ انسپیکٹر اسد اور ان کی ٹیم اندرگئے تو  مذکورہ جوڑے کو مرا ہوا پایا۔  فوت شدہ جوڑے کے  مطمئن اور پرسکون چہرے دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں ۔ لیکن ہونٹوں کا  رنگ دیکھ ٹیم نے اندازہ لگایا کہ بزرگ جوڑے کو یا تو زہر  دی گئی ہے  ...

ڈراونا خواب

  ڈراونا خواب   وہ سولہ سال کا تھا تب، جب سے وہ چڑیا گھر اور  باغ کی رکھوالی کر رہا تھا۔ سبھی اس کو  مالی کاکا کہہ کر بلاتے تھے۔ پھولوں ، پودوں سے زیادہ وہ ان مختلف نسلوں کے پرندوں کا خیال رکھتا تھا جو ان پیڑوں کے مکین تھے ۔ ان پرندوں کی دیکھ بھال اپنی اولاد کی طرح کرتا تھا اور باغ کی دیکھ ریکھ بھی ان پرندوں کے لئے کرتا تھا تاکہ ان کو پنپنے کےلیے  سازگار ماحول دستیاب ہو۔  پرندوں سے اتنی محبت اور قربت ہو گئی تھی کہ ان سے باتیں کرتا ان کو باقاعدہ تربیت دیتا تھا.۔ اس وجہ سے اس کو "پرندہ شناس" کا نام دیا گیا تھا ۔ پوری زندگی اس نے  چڑیا گھر کےلئے وقف کر دی تھی۔ آج چالیس سال بعد اس نے خود کو تھکا ہوا محسوس کیا ، کیونکہ  پہلی بار  چڑیا گھر کی  ویرانی اس کے سمجھ سے باہر تھی۔ پرندوں کا نظام درہم برہم ہوتے دیکھ وہ مایوس ہوکر کام سے گھر لوٹا۔ گھر کے ایک کونے میں دیوار کے ساتھ  ٹیک لگا کر بیٹھ کر وہ خود سے باتیں کر نے لگا "میں اپنا کام ٹھیک سے کرتا ہوں، میری طرف سے دیکھ بھال میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے،   پھر ایسا کیا ہوگیا کہ اس ...

گڑیا کی شادی

گڑیا کی شادی شاہجہان پور کی ہاوسنگ سوسائٹی میں تین پڑوسیوں کی بچیاں حور، شیریں اور چھایا ، ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں ،کبھی ایک سہیلی کے گھر تو کبھی دوسری کے گھر اپنے کھلونے  لے کے روز جاتیں۔حور  کبھی کبھار ہی نظر آتی کیونکہ وہ اکثر  بابا کی ڈیوٹی کی وجہ سے شہر  سے باہر رہتی تھی۔ . شیریں اور چھایا  کے پاس جب  بھی نئی کھلونے آتے وہ اپنے گڑا   اور  گڑیا کی  شادی  رچاتے۔ اس بار شیریں کے پاس پیاری   سی گڑیا   تھی،   جو سمندر پار سے ماموں   جان نے خاص    شیریں کے لیے لائی تھی۔  جس کے  لمبے سنہرے بال اور  گہری نیلی آنکھیں تھیں ۔ مانو جیتی جاگتی اپسرا  تھی۔ جو بٹن دبانے سے پلکیں جکا کر مسکراتی تھی  اور مٹک مٹک کے چلتی تھی۔ شیریں کو گڑیا   کیا مل گئی یوں سمجھو ساری کائنات کے اسکے ہاتھ میں آگئی ہو ، من ہی من اتراتی کبھی  گڑیا کے بال سنوارتی کبھی گود میں اٹھاتی، ہر دم گڑیا کو اپنے پاس رکھتی تھیں۔  چھایا کے پاس بھی  پیارا سا گڑا  آیا تھا ، جو رموٹ سے چلتا تھا۔ وہ...

غزل

  غزل مدتوں سے شعلوں کو دل  میں  دفناتی رہی ہوں میں کس نے  ہوا دی انہیں کہ آگ اگل  رہی ہوں میں آرزو تھی جس دریا سے ملنے کی مجھ آب جُو کو کوئی کہہ دے اُسے کہ   اب سمندر ہو گئی ہوں میں پر ہی میرے ٹوٹے ہے پرواز نہیں ممکن پھر بھی حوصلوں کو پر لگا کے آسمان میں اڑ رہی ہوں میں ساری رات چاندی میں نہا کے اوس کی بوند جیسے تاب خورشید دیکھ کر قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں آس ہی آس رہی کب اس دل کی پیاس بجھی آنکھوں میں کئی ساگر چھپا کے جی رہی ہوں میں لٹ کے بیٹھا ہے کاسہ لےکر  در آستاں پہ جو جانے اس ملنگ کو دیکھ کر کیوں رو رہی ہوں میں زندگی کے موسم بھی بڑے بے  اعتبار ہے شجؔر رنگ اسکے دیکھ کر حیران ہو رہی ہوں میں ریحانہ شجر ،      وزیر باغ سرینگر                                                 ...