دارالضعیف

 

 (Old age home) دارالضعیف

انسپیکٹر صاحب میں نے آپ کو  فون کرکے بلایا،اخبار، دودھ وغیرہ دروازے کے سامنے پڑا ہے  ابھی تک اندر سے کوئی اٹھانے نہیں نکلا۔ میں نے  کئی بار دستک دی پر کوئی ردعمل یا جواب نہیں ملا۔ میرا نام صدیق ہے۔ میں اس کالونی کا دھوبی ہوں دوپہر کے بعد میں کپڑے لانے اور لےجانا آتا ہوں ۔

صدیق ،انسپیکٹر اسد کو مکان کے قریب لے گیا۔  انسپیکٹر نے پوچھا یہاں کون رہتا ہے یہ گھر کسی کا ہے۔

صدیق بولا ‘صاحب یہ محترم خلیل ماروی او اس کی اہلیہ  آسرا   ماروی کا گھر ہے’۔
انسپیکٹر اسد نے اپنی ٹیم کے ساتھی کو دروازہ توڑنے کا حکم دیا ۔پولیس اہلکار نے دروازے کو ہلکا دکا دیا  اور دروازہ بنا کسی کوشش کے کھل گیا حیران ہو کر جٹ سے بولا ‘ سر دروازہ کھلا ہے’۔

انسپیکٹر اسد اور ان کی ٹیم اندرگئے تو  مذکورہ جوڑے کو مرا ہوا پایا۔  فوت شدہ جوڑے کے  مطمئن اور پرسکون چہرے دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں ۔ لیکن ہونٹوں کا  رنگ دیکھ ٹیم نے اندازہ لگایا کہ بزرگ جوڑے کو یا تو زہر  دی گئی ہے  یا پھر انہوں نے زہر کھا کر خود کشی کر لی  ہے ۔

انسپیکٹر نے صدیق سے پوچھا اس جوڑے کی کوئی اولاد نہیں ہے.؟  ‘ہاں صاحب دو بیٹے ہیں دونوں بیرون ممالک میں کام کرتے ہیں ، صدیق بولا۔

انسپیکٹر اسد  سو چنے لگا اس عمر  میں بزرگ جوڑے کو خود کشی کیوں سوجھی۔  جانچ کے دوران انہیں چاے کی میز پر ایک  مختصر سا خط ملا  جس میں لکھا تھا،

‘ کافی سوچ بچار کے بعد ہمیں لگا کہ ہمارے لیے دنیا چھوڑ دینا بہتر ہے۔ جب تک ہم توانا تھے اور اپنا کام خود کرنے کے اہل تھے تب تک سب کچھ  ٹھیک تھا۔ ہم نے جو اولاد کے لئیے کیا ہمارا فرض تھا۔ انکے بچوں کو بھی سنبھالا وہ ہماری خوشی تھی۔

ہمیں سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ اب ہم ضعیف ہو چکے ہیں ۔ایک بڑھاپا صحت سے  جڑے کئی تقاضے اور مسائل لے کے آتا ہے۔
بچوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ماں آسٹریلیا میں بڑے کے بیٹے کے پاس رہے گی اور باپ لندن میں چھوٹے بیٹے کے پاس۔ لیکن ہمارے کہنے کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمارے بچوں کی اپنی کئی مجبوریاں ہیں۔

لیکن ہماری بے بسی کا عالم کچھ اور ہے۔  ہم دونوں نے زندگی کی ہر  للکار   کا سامنا ایک ساتھ کیا۔ ایک دوسرے کا ساتھ تھا ،تبھی ہم زندگی کی ہر  مشکل کو ٹھوکر  مار کر آگے نکل گئے۔ایک  دوسرے سے الگ رہ کر  نہ ہم چین سے  نہ جی  پاتے  نہ  سکون سے مر  پا تے۔ جیتے جی زندگی کے اس آخری پڑاؤ پر الگ رہنا ہمارے لئے  مشکل تھا۔

ہمارا  فیصلہ ہمارے لئے  اطمینان کا فیصلہ ہے۔ ہمیں کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ہماری حکام سے گزارش ہے کہ   آجکل کے دور  مصروفیت میں کسی کے پاس وقت نہیں ہے کہ بزرگوں کو سنبھالنے اور دیکھ بھال کرے۔ 
بیٹے ،بہویں، بیٹیاں سب اپنے کام کےلئے نکلتے ہیں۔ان کو بھی اپنی زندگی سنبھالنے کا موقع فراہم ہونا چاہئے۔

ایسے میں بزرگوں کےلیے دن گزارنا قیامت سے کم نہیں ہے ۔جوان جوڑوں کو کوسنے کے بجائے بزرگوں  کی بقاء کےلئے کوئی  حل طلب کیا جائے ۔ جس طرح بچوں کے لئے  دارالاطفال (crèche) کھولے جا  چکے ہیں اسی طرح بزرگوں کےلئے بھی  دارالضعیف( old age home)  کا احتمام کیا جائے تاکہ بزرگ لوگ کسی عملے کی  زیر نگرانی زندگی کے آخری ایام سکون سے گزار سکیں۔

اس مقصد  کیلئے ہم   اپنی رہائش گاہ اور اس کے آس پاس کی زمین دارالضعیف  کے لئے وقف کر رہے ہیں۔ ہماری وصیت اور گھر کے دیگر کاغذات ہمارے تکیہ کے نتیجے رکھے ہوئے ہیں ۔ ہماری آخری خواہش سمجھ کر  اس کام کو پائے تکمیل تک پہنچا دیا جائے ،   اور  اس گھر کا نام‘ آسرا  دارالضعیف" رکھا جائے ۔

ریحانہ شجر

rehanashajar@gmail.com

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کہانی(انوکھا سفر)

کہانی (عیدی)

پھر ملیں گے…….. دوست!