غزل
غزل مدتوں سے شعلوں کو دل میں دفناتی رہی ہوں میں کس نے ہوا دی انہیں کہ آگ اگل رہی ہوں میں آرزو تھی جس دریا سے ملنے کی مجھ آب جُو کو کوئی کہہ دے اُسے کہ اب سمندر ہو گئی ہوں میں پر ہی میرے ٹوٹے ہے پرواز نہیں ممکن پھر بھی حوصلوں کو پر لگا کے آسمان میں اڑ رہی ہوں میں ساری رات چاندی میں نہا کے اوس کی بوند جیسے تاب خورشید دیکھ کر قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں آس ہی آس رہی کب اس دل کی پیاس بجھی آنکھوں میں کئی ساگر چھپا کے جی رہی ہوں میں لٹ کے بیٹھا ہے کاسہ لےکر در آستاں پہ جو جانے اس ملنگ کو دیکھ کر کیوں رو رہی ہوں میں زندگی کے موسم بھی بڑے بے اعتبار ہے شجؔر رنگ اسکے دیکھ کر حیران ہو رہی ہوں میں ریحانہ شجر ، وزیر باغ سرینگر ...