اشاعتیں

اگست 17, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غزل

  غزل مدتوں سے شعلوں کو دل  میں  دفناتی رہی ہوں میں کس نے  ہوا دی انہیں کہ آگ اگل  رہی ہوں میں آرزو تھی جس دریا سے ملنے کی مجھ آب جُو کو کوئی کہہ دے اُسے کہ   اب سمندر ہو گئی ہوں میں پر ہی میرے ٹوٹے ہے پرواز نہیں ممکن پھر بھی حوصلوں کو پر لگا کے آسمان میں اڑ رہی ہوں میں ساری رات چاندی میں نہا کے اوس کی بوند جیسے تاب خورشید دیکھ کر قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں آس ہی آس رہی کب اس دل کی پیاس بجھی آنکھوں میں کئی ساگر چھپا کے جی رہی ہوں میں لٹ کے بیٹھا ہے کاسہ لےکر  در آستاں پہ جو جانے اس ملنگ کو دیکھ کر کیوں رو رہی ہوں میں زندگی کے موسم بھی بڑے بے  اعتبار ہے شجؔر رنگ اسکے دیکھ کر حیران ہو رہی ہوں میں ریحانہ شجر ،      وزیر باغ سرینگر                                                 ...