ایک مختصر کہانی (یتیم کی پکار)
یتیم کی پکار غزلی سکول سے واپس آئی تو ماں کو کام کرتے دیکھ بولی ‘امی میرا انتظار کیا کرو میں کام خود سارے کام نپٹالونگی’۔ پروین کو غزلی کی طرف پیار سے دیکھ کر بولی ‘تم اپنی کتابوں میں دھیان دو یہ کام ہو جایگا، ہم غریبوں کے چھوٹے سے گھروں میں کام ہی کتناہوتا ہے’۔‘ امی کام ہر گھر میں ہوتا ہے’۔ غزلی جھٹ سے بولی۔ پھر ماں نے کہا ‘بس باتیں بنائے بغیر جلدی کھانا کھاو اور تھوڑے چاول بھایئ کے لیے بھی رکھنا’۔ ‘ٹھیک ہے امی ’غزلی بولی ۔وہ تھی تو دس سال کی لیکن وقت اور حالات نے اسکو سیانی بنادیا تھا۔ ۔۔۔!اسکا باپ جس کا نام الیاس تھا حالات کا مارا وہ اپنے دادا کے دوران حیات ہی یتیم ہوگیا تھا اور گھر والوں نے اسکی ماں اور الیاس کو زمین جایداد سے بے دخل کر کے گھر سے باہر نکالا تھا۔تب سے اسکی ماں نے اسکو سنبھالا تھا۔ میٹرک پاس کرکے کام ڈونڈھنا شروع کیالیکن کام کہیں نہ ملا۔پھر ایک روز نیم فوجی دستے میں عارضی سپاہی م...