نظم(اگر ہوسکے)
اگر ہوسکے
میں سویا ہوا ہوں مجھکو جگا دے اگر ہوسکے
شعلہ بجھ گیا ہوں مجھکو ہوا دے اگر ہوسکے
نہ دشت
میں رہتا ہوں
نہ صحرا میں رہتا ہوں
میں پیاسی ہوا ہوں
کچھ کھو چکا ہوں
جسے ڈونڈتا ہوں، میں در بدر
مجھ
کو قابو تو کر لے
بانہوں میں بھر لے
حوصلہ یہ کر لے
اگر ہو سکے
میں
برگ شجرؔ ہوں
شاخ سے الگ ہوں
مٹی میں میں گم ہوں
اے.....! بد مست ہوا تو
آکے اڑا لے ...! یا
خاک میں ملا دے ...یا
گلشن بنا دے
اگر ہو سکے
ریحانہ شجر، وزیر باغ، سرینگر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں