کرونا وايرس اور ہم



کرونا وايرس اور ہم

صحیح بخاری۵۷۳۹ اور مسلم ۲۲۱۹ میں عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے مین سنو کہ وہا طاعون پھلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاو اور جس سر زمین مین وہ پھیل جاے اور تم وہان ہو تو طاعون کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر( کہیں اور) نہ جاو۔.

دنیا کے مختلف مذاہب  کی مقدس کتابوں  میں وباء کے بارے میں لکھا گیا ہے  _ جس میں اسے مزید پھیلنے کی احتیاتی تدابیر بھی شامل ہے _

تمام عالم انسانیت پچھلے ایک ڈیڈ سال سے ایک مہلک وبا(کرونا وائرس ) سے ذہنی دباؤ اور معاشی غیر  یقینی  صورت حال سے دوچار ہیں_ المیہ یہ ہے  کہ وائرس کی دوسری لہر  کا حملہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔_

یہ  حملہ کر کے فرار ہونے والا قاتل وائرس ہے_  جس کے بچاؤ کے لئے   فل وقت نہ  کوئی سو فیصد کارگر  دوا ہے  اور نہ ویکسین  دستیاب ہے _ یہ سب جانتے ہوئے ؛ اب غور طلب  بات  یہ ہے کہ،  یہ وائرس اتنا مہلک ہونے کے باوجود ہم وہ احتیاتی تدابیر اختیار نہیں کر رہے ہیں جسکی تلقین ماہرین صحت وقتا فوقتا  مختلف ذرائع سے اجراء کر تے رہتے  ہیں.  ہم اپنی طرف سے صرف احتیاط برت سکتے ہیں .  ماسک پہننے سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے پر اپنے آپ کے لیے اور ان تمام افراد کے لئے  جن سے ہمارا رابطہ ہیں  سب کےلئے نعمت ہے . بھیڑ  سے الگ رہنا سب کے لئے بچاؤ ہیں. یہ ذمہ داری نبھا کے ہم ایک معزز شہری ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں  

ہم اس بات سے کتراتے ہیں .کہ اگر ہم دعوت پر نہیں جائیں گے یا اگر  تعزیت پر  پوار دن نہیں گزاریں گے 'تو لوگ کیا کہیں گے '.  یہاں ہر فرد کی  ذمہ داری ہے،  چاہے تقریب کو ئی بھی ہو شعور اور انسانیت کی حد میں رہ کر سوچیں. ایک  اچھی سوچ اہم کردار ادا کر سکتی ہے . تاکہ ہم اسکے وباء سے چھٹکارا پا سکیں گے

ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے  کہ اللہ کی رحمت سے کبھی  مایوس نہیں ہونا چاہیئے

یہ دن بھی گزر جائیں گے . پھر سے انشاءاللہ  خوشیوں کا دور آئے گا

ریحانہ شجر

سرینگر کشمیر

 

 

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کہانی(انوکھا سفر)

کہانی (عیدی)

پھر ملیں گے…….. دوست!